لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 


چینی کی فروخت کیلئے ڈپو سسٹم کی تجویز
  حکومت کی تمام تر کوشش اور سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاہور ہائی کورٹ کے احکامات اور ہدایات کے باجود چینی کا بحران ختم ہونے میں نہیں آرہا ہے اور مقررکردہ نرخوں پر چینی کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاسکی ہے، حکومت گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں پر حکومت قابو نہیں پاسکی ہے حکومت اور شوگر مالکان کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور ڈیلروں کی طرف سے حکومتی اقدامات پر نکتہ چینی کا عمل آج بھی جاری ہے،ادھر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ باقی صوبے بھی چینی کی مقرر کردہ قیمت پر فروخت کے لئے پنجاب حکومت کے طریقہ کار کی پیروی کریں اور ساتھ ہی ڈپو سسٹم قائم کرکے چینی کی چالیس روپے فی کلو فروخت کو یقینی بنانے کی ہدایت کریں وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل بیٹھ کر نظام کار بنائیں اور درمیانی راستہ نکالیں،ڈپو سسٹم کے نفاذ سے صارفین کی مشکلات کا خاتمہ اور مقررہ قیمت پر چینی کی فروخت کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

ڈپو سسٹم کا نفاذ صارفین کی مشکلات ختم کرنے میں کامیاب رہے گا؟

کیا اس طرح منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی کمر توڑی جاسکے گی؟

آپ اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (19)     
 

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

-ابرار خان، دیر، ڈپو سسٹم اسی صورت مین کارآمد ہوگا جب ہر گائوں شہر میں چینی لینے والون کی تعداد مقرر ہونی چاہیئے تاکہ باہر والا بھی وہان آکر چینی نہ خرید پائے اسی طرح لوگون کو پابند کیا جاسکتا ہے،
 
Abrar khan Posted on: Tuesday, October 27, 2009

-شارق، کراچی، چینی کا استعمال کم کردیجئے چینی کا بحران ختم ہوجائے گا۔ ڈپو سسٹم سے کیا چینی کھانا کم کردیں گے
 
shariq Posted on: Saturday, October 24, 2009

-عامر، جرمنی، دنیا میں ہر قوم آگے جانا پسند کرتی ہے لیکن ہمارے یہاں وہی پرانا نظام لانے کی بات ہورہی ہے۔ ہمارے سیاستدان ہی جب خود بد عنوان ہیں وہ عوام کو کیا دیں گے ان کا مقصد تو منافع کمانا ہے کیونکہ چینی کے کارخانے انہی کے ہیں،وہ کس طرح اپنا نقصان کریں گے
 
aamir Posted on: Saturday, October 24, 2009

-معراج خان، دوحہ، مجھے خوشی ہے کہ جنگ اخبار اپنا کردار بہت اچھے طریقہ سے انجام دے رہا ہے،ڈپو سسٹم قائم ہونے سے عوام کو چینی سستی اور بر وقت مل سکے گی جنگ بلاگ کا شکریہ
 
mirajkhan Posted on: Sunday, October 25, 2009

-صدیق علی چودھری،کوالالمپور،ملک کی سنگین صورتحال دیکھتے ہوئے ہمیں ڈپو سسٹم پر بات کرنے سے زیاہ اہم بات ملک کے دفاع پہ زور دینے کی ہے اصل ایشو یہی ہے، چینی چور وں کا اس ک احساس نہیں ہوسکتا وہ صرف اپنی کمائی پہ توجہ دیں گے،ملک کی سلماتی زیر غور رہنا چاہیئے،
 
Shahid Ali Chaudhry Posted on: Saturday, October 24, 2009

-شاہد عباسی اسلام آباد، ہمارے ملک میں چینی کے بحران پہ قابو پانے کے لئے اس سے بہتر سسٹم اور کوئی نہیں ہوسکتا، یہ مسئلہ اسی طرح حل ہوسکتا ہے،
 
shahid abbasi Posted on: Sunday, October 25, 2009

-عاطف آفتاب،کراچی،میرا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پہ عمل درآمد ہونا چاہیئے ڈپو سسٹم پر عمل کرنے سے عوام کو چینی مل سکے گی۔ لیکن جن لوگوں نے چینی کی فروخت روکی ہے انہیں سزا دینی ہوگی یہ چند لوگ ملک میں عوام کو پریشان کر رہے ہیں
 
atif aftab Posted on: Sunday, October 25, 2009

-حسیب، اسلام آباد، امریکی ایجنسیاں پاکستان کے ایٹمی پلان پہ نظر جمائے ہوٰئی ہیں،لیکن ہم بھی اس کو سمجھ رہے ہین انشاء اللہ ہم امریکیون کو کامیاب نہیں ہونے دین گے،
 
haseeb Posted on: Monday, October 26, 2009

-شاہد ، دمام،آپ نے لکھا ہے کہ تمام کوشش کے باوجود حکومت بے بس ہے، یہ شوگر مل مالکان خود حکومت میں ہیں، اگر ڈو کھول بھی دین تو کیا ضمانت ہے کہ عوام کو اس قلت سے نجات مل جائے گی، عوامی حکومت ہوتی تو آج یہ مصنوعی قلت اور بحران نہیں ہوتا،
 
shahid Posted on: Monday, October 26, 2009

-محمود علی، حیدر آباد، سپریم کورٹ کی تجویز قابل عمل ہوسکتی ہے اس طرح عوام منافع خورون چینی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں سے بچتے ہوئے مقررہ قیمتوں پر چینی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے،اس ڈپو سسٹم کے نفاذ سے عوام بھی مشکلات سے بچ سکیں نگے اسے فوری نافذ کیا جانا چاہیئے
 
محمود علی Posted on: Saturday, October 24, 2009

-حسین کاظمی، اٹلی، اے میرے اللہ یہاں کے حاکموں اور عوام کو ہدایت دے، کیونکہ ہم ادسانیت کی پاسداری کریں، اس کے بعد کسی قسم کے ڈپو کی ضرورت نہیں رہے گی،
 
Hussain Kazmi Posted on: Sunday, October 25, 2009

-چایرو دلدار،ہوسٹن، واہ کیا سسٹم ہے تجاویز پر تجاویز پیش کی جارہی ہین، لیکن چینی کی قیمت کم ہوکر نہیں دے رہی ہے، اس حکومت سے اچھائی کی توقع نہیں رکھنی چاہیئے،
 
chairo dildar Posted on: Monday, October 26, 2009

-عبدل لطیف خٹک، دوبئی، دنیا آگے جارہی ہے اور پرانے سسٹم کے نفاذ پہ غور کر رہے ہینیہ مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ چینی چوروں کو سزا دی جائے جو ملک کی معیشت کو خراب کرنے پہ تلے ہوئے ہیں،
 
Abdul latif khattak Posted on: Saturday, October 24, 2009

-علی اختر رفاعی،دوبئی،حکومت کو چاہیئے کہ وہ چینی بازار میں لائے۔ سپریم کورٹ کو اختیار نہیں کہ وہ چینی کے بارے میں حکم جاری کرے یہ انتظامیہ کا مسئلہ ہے اسے مداخلت کا حق نہیں ہے
 
ALI AKHTAR REFAI Posted on: Sunday, October 25, 2009

-فرزانہ صدیقی، کراچی، میرے خیال میں ڈپو سسٹم کی حمایت کرنی چاہیئے کیونکہ اس طرح چینی کا حصول ممکن ہوسکے گا، اور مقرر کردہ قیمت پر با آسانی شکر دستیاب ہوگی، اس کا نفاذ ممکن بنایا جائے
 
fazana Sidiqi Posted on: Saturday, October 24, 2009
Prev | 1 | 2 | Next
Page 1 of 2


ہاری ہوئی ٹیم ۔۔۔جواری ہوئی ٹیم؟
الطاف حسین نے مارشل لاء جیسے اقدام کی حمایت کیوں کی ؟
سیالکوٹ واقعہ ایک لمحہ فکریہ!
نوجوان بولر وہاب ریاض کی شاندار پرفارمنس
سیلابی پانی کا رخ موڑنے کی سیاست!
 
کرکٹ اور ٹینس کا تاریخی بندھن
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 2055 )
بالآخر” جیو“ کو بند کردیا گیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 515 )
جیو نیوز کی نشریات پر پابندی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 503 )
جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 452 )
میڈیا پر پابندیاں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 416 )
 
 
 
 
 
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy