Friday, November 20, 2009
Jang Blog
 
 
 
لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 


این آر او کی منظوری!
  قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او)کی کثرت رائے سے منطوری دے دی ہے۔ قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے قانون و انصاف نے بدنام زمانہ این آر او سے مستفید ہونے والی اعلیٰ ترین شخصیات کو بچانے کیلئے سفارش کی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اس قانون کے موٴثر ہونے کی ابتدا اور انتہا کیلئے جو تاریخیں مقرر کی تھیں انہیں ختم کر دیا جائے تاکہ ہر خاص و عام مجرم اس سے فائدہ اٹھا سکے اور ان اعلیٰ عہدوں پر براجمان افراد پر انگلیاں اٹھنی بند ہو جائیں۔ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے وزیر مملکت برائے قانون محمد افضل سندھو نے دی نیوز سے باتیں کرتے ہوئے خم ٹھونک کر اعتراف کیا کہ بدنام زمانہ قانون کی شق نمبر سات میں وڈدرال اینڈ ٹرمینیشن آف پروسیڈنگز کے سیکشن میں نئے نکات کی شمولیت کے ذریعے این آر او میں ترمیم کر دی گئی ہے جس کے تحت پرویز مشرف کی متعین کردہ تاریخوں یکم جنوری 1986 سے پہلے اور 12 اکتوبر 1999ء کے بعد رجسٹر ہونے والے مقدمات بھی عدالتوں کے ذریعے بند کرائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے ”پبلک آفس ہولڈر“ کے الفاظ کے بعد ”اینڈ اینی اور پرسن“ کے الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ صرف سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کے علاوہ ہر کس و ناکس این آر او سے مستفید ہو سکے۔ اس طرح یہ ایک مستقل این آر او کی شکل اختیار کر لے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اگر کسی عام شہری کے خلاف اس وجہ سے کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے کہ وہ کسی عوامی عہدے کے حامل شخص کا رشتہ دار ہے تو اس ترمیم کے تحت وہ مقدمہ خارج کیا جا سکے گا اور ایک ریویو بورڈ کے سامنے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے گا اور اس ترمیم شدہ قانون کا نفاذ نومبر میں متوقع ہے تاہم اس سے قبل اس مسودے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کا اجلاس 2 نومبر سے ہو رہا ہے۔ سندھو نے بتایا کہ مجلس قائمہ نے 5 شقوں کی اکثریت سے منظوری دی جبکہ کل 7 میں سے دوشقیں شق نمبر 2 اور شق نمبر 7 زیادہ اہم ہیں اور شق نمبر ایک سے تین اور 6 سے7 کی منظوری اکثریت سے دی گئی ہے مشق نمبر 4 اور 5 حکومت نے واپس لے لی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شق 7 کے ذریعے این آر او کے نافذ العمل ہونے کی تاریخ 5 اکتوبر 2007 کے بعد کسی بھی شخص کو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ جائز اور قانونی متصور ہو گا۔

کسی بھی شخص کو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ جائز اور قانونی متصور ہو گا؟

این آر او کو پارلیمنٹ سے منظورکرایا جاسکے گا؟

اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
تبصرہ کریں     احباب کو بھیجئے
 


-عارف، لاڑکانہ، عوان کو جمہوریت مبارک ہو، یہ وہی جمہوریت ہے جو عوام چاہیں یا نہ چاہیں ہمارے حکمران صرف اپنے مفاد کی بات کریں گے ملک کے مفادات پر سوچتے تو اچھا ہوتا، لیکن سیاست میں مفادات کا مافیا سرگرم عمل ہے،
  Arif


-محمد نوشیروان۔ راولپنڈی،سچا آدمی کبھی نہیں ڈرتاڈرتا وہی ہے جس کے دل میں چور ہوتا ہے،اگر یہ سب سچے ہیں تو کیوں بےساکھیوں کاسہارا لیتے ہیں سامنے آئیں اور اپنے کیسز کا مقابلہ کریں،کتنا پیار ہے ملک سے خود بھید کھل جائے گا، ورانہ کیا فرق ہے اس حکومت میں اور سابق مشرف حکومت میں،
  muhammadnosharwan


-باچہ زیب، کراچی، این آر او اگر پارلیمن؁ میں لایا گیا تو اور منظاور ہوا تو پھر عوام بھی حکمرانوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے،اب عوام کو جاگنا ہوگا اور چوروں کو بھاگنا ہوگا،کیونکہ چور ہی چور کا ساتھ دیتا ہے ،ہمیں یہ سوچنا ہوگا،
  Bacha Zaib


-امتاز احمد لون،این آر او ایک ایسا کالا قانون ہے جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ سکڑ کے رہ گیا ہےاین آر او کا استعمال کرنے والے آسانی سے قانون کے شکنجہ سے چھوٹ جائیں گے ہمیں اس کی مخالفت کرنی ہوگی، کیونکہ یہ ایسے مجرموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے یہ ایک لعنت ہے، اسے ختم ہونا چاہیئے
  imtiaz ahmad lone


-ضرار گیلانی،اسلام آباد، یہ چوروں کی جیب بھرنے کا قانون ہے اور ان کی راہ میں نرکاوٹ معلوم ہوتا ہے اسی لئے اسے پارلیمنٹ میں لانا چاہتے ہیں اس طرھ پاکستان کی ترقی متاثر ہوگی،
  zarar gilani


-محسن عباس،الخبر، این آر او ایک ایسا قانون ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی،کاش ہمارے لیڈر ہوش کے ناخن لیں،اور خود ہی اسے مسترد کردیں۔اور اپنے کیسز کے لئے کورٹ سے رجوع کریں،اگر یہ منظور ہوگیا تو اس کے اثرات ملک کی تاریخ پر پڑیں گے
  Mohsin Abbas


-خالد محمود، مدینہ، این آر او پاس ہوجائے گا کیونکہ سب چوروں سے ملے ہوئے ہیں،
  khalid mahmood


-صوفیہ، لاہور، یہ کالے قانون کی طرح ہے،
  sofia


-عابد آزاد خان، لندن،وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاؓ رگڑنے کی امید ہےچشمہ وفاء یاسین سے نکلے گاایسے قاون کو بالکل منظور نہیں ہونا چاہیئےجس نے غریب آدمی کو بھی احساس ہو کہ اگر اسکا بھی ہاتھ پڑے تو وہ بھی ان لیڈروں کی طرح وطن کو لوٹے اور این آر او کے زریعے خود کو معاف کروالے، یہ ہمارے لیڈروں کو کیا ہوگیا ہے کس قسم کے قانون بنوا رہے ہیں،
  ABID AZAD KHAN


-جاوید اقبال ملک، چکوال، کبھی کسی غریب آدمی کو بھی معاف کیا ہے ان لوگوں نے یہ سب اپنے مفاد کو دیکھتے ہیں،اور اس کے لئے کام کر رہے ہیں،یہ دونوں بڑی جماعتین اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہی ہیں،یہ سب ملے ہوئے ہیں، اگر ہم ایک ہوں تو اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں،
  javed iqbal malik


جاوید حان خٹک، یو اے ای،این آر او ایک سیاہ داغ ہے جو جمہوریت کے بطن سے پیدا ہوا ہےیہ آمریت کو زندہ رکھنے والی آئینی شق کہا جاسکتا ہے، جسے مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ کالا قانون لانے کی تیاری مین نواز لیگ شامل نہیں ہورہی ہے اس کا مخلاف ہونا اچھا ہے،
  Javed Hassan khattak


-محمد ادریس۔ کراچی، ہماری پارلیمنٹ خود کرپٹ لوگوں پر مشتمل ہے،یہاں مجرمانہ ذہنیت کے لوگ خود کو پارلیمانی کہتے ہیں حالانکہ وہ اس کے اہل بھی نہیں ہیں اگر یہ بل منظور ہوتا ہے تو کوئی نئی بات نہیں ہے، اس کا مقصد یہی ہے کہ ایسے قوانین پاس کرواکے خود کو کرائم سے بچانا ہے،یہ کرپٹ سیاستدان یہی چاہتے ہیں،
  Mohammad Idrees


-محمد نوشیرواں، راولپنڈی،اپنے کالےکرتوتوں کو چھپانے کے لئے یہ قانون لایا جارہا ہے،اس کے نفاذ سے ملک میں کلاقانونیت کا دور دورہ ہوگا،ہمارا مذہب صرف راہ ہدایت کی تعلیم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اس قانون سے جرائم کے خلاف ااوعاز بھی نہیں اٹھائی جاسکے گی
  muhammad nosharwan


-رمیض، بھاولپور،جو بھی لوگ این آر او پر بحث کر رہے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتا ہون کہ کیا اس وقت یہی ہمارے ملک کا مسئلہ ہے کیا ایک پاکستانی شہری کو اس سے کوئی نسبت ہے؟ یہاں تو عوام کو ریلیف تک حاصل نہیں ہے، اور نہ ہی اس میں کسی نے دلچسپی لی ہے۔ چاہے جنرل مشرف ہوں یا زرداری،
  Rameez


-صفدر عباس،لاہور، پاکستان کی ڈری سہمی مجبور اور سست عوام کے لئے خوش خبری ہے کہ این آر او مسلط کرنے کی کوشش کے باجود بھی اس کا نفاذ ناممکن ہوگا،
  safdar abbas
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | Next
Page 1 of 4


تازہ بلاگ
ایک کھرب 65ارب روپے ہضم
عوام کو بجلی کا ایک اور جھٹکا!
چینی کابحران اور عوام پریشان!
ملکی سلامتی اور پاک فوج کا عزم
پاکستان میں کرپشن لمحہ فکریہ!
صدر اوباما کا صدر آصف زرداری کو خط
شادی ہالز کی تقریبات پر وقت کی پابندی
سیکیورٹی کے نام پراسکول فیس میں اضافہ؟
محمد یوسف ٹیسٹ سیریز کیلئے کپتان مقرر
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات
مزید بلاگِ   َ
 
Jang Blog - Best blogspot of Pakistan - Discuss issues, news, problems, sports - Pakistani forum
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy