|
 |
 |
| ریلوے حادثہ،حکام کیلئے لمحہ فکریہ |
|
|
|
| |
کراچی جمعہ گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب اندرون ملک سے آنے والی علامہ اقبال ایکسپریس سپر پارسل ایکسپرس کے تصادم کے نتیجہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 9ہو گئی ہے جبکہ 35زخمی ہیں۔جمعہ گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب علامہ اقبال ایکسپریس سمت سے آنے والی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔حادثے کے فوری بعد مقامی افراد اور رضا کاراداروں، فائراینڈریسکیو سروس کے کارکنان نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔بعدمیں پولیس ، رینجرز اور ریلوے کی ٹیموں نے بھی امدادی کارروئیوں میں حصہ لیا اور بوگیاں کاٹ کر زخمیوں کا نکالنا شروع کیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق کمسن بچے سمیت8افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 35سے زائد زخمیوں کو جناح اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔جناح اسپتال کی ڈپٹی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ڈی ایس ریلوے آفتاب میمن نے بتایا کہ علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے سگنل نہ ملنے کے باوجود ٹرین کراس کی اور سامنے سے آنے والی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔ان کا کہنا تھا کہ حادثے سے ٹریک کو نقصان نہیں پہنچا تین سے چار گھنٹے میں ٹرین سروس مکمل بحال کردی جائے گی۔ ڈی ایس ریلوے نے کہا ہے کہ ٹرین حادثے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
حادثے کا ذمہ دار ریلوے کا فرسودہ نظام یا غفلت؟
آج کے اس جدید دور میں ریلوے نظام صرف سگنل سسٹم پر ہی منحصر کیوں ہے؟
ہمارا فرسودہ ریلوے نظام دنیا کے جدید ریلوے نظام میں کب تبدیل ہوگا؟
اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ |
| |
|
| تبصرہ کریں ا حباب کو بھیجئے | تبصرے (10) |
| |
|
 |
 |
-سید زادہ، کراچی،ریل کا یہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت بھی کہا جاسکتا ہے اور اس میں ریلوے حکام بالا عدم توجہی بھی ہوسکتی ہے، جدید دور مین فرسودہ نظام بھی ایک وجہ ہے، اس حادثہ میں جان بحق افراد کے علاوہ ان کے لواحقین سے ہمدردی ہے۔ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، |
| |
| سید زادہ |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-عابد آزاد خان، لندن، یہ حادثۃ صرف اور صرف ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے ریلوے حکوم کو سوچنا چاہیئے کہ اس میں سفر کرنے والے کس پر اعتماد کرین ہماری ریلوے ہر سال اربوں روپیہ کماتی ہے لیکن عوام تکلیف دہ سفر گذارتے ہیں،ایک بات اور کہ جدید سسٹم کا نہ ہونا ہے، |
| |
| ABID AZAD KHAN |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-سید اطہر، کراچی،پاکستان میں ریلوے کرپشن میں سب سے آگے ہے، یہ ادارہ پہلے بدنام رہا ہے اس حادثے نے واضھ کردیا کہ یہاں بدنطمی موجود ہے جب ایک ذمہدار ڈرائیور اتنی خوفناک غلطی کرسکتا ہے جہان بے گناۃ مسافر مارے گئے، پہلے کرپشن کا خاتمہ ہونا ضروری ہے ورنہ یہ حادثے ہوتے رہیں گے، |
| |
| Syed Ather Ali |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
مخلص راہی، کراچی،ہمارا فرسودہ نظام ہٹاکر ریلوے کا جدید نظام اپنایا جائے اس نظام میں وقت تبدیل ہوگاتب ہی عوام میں شعور آئے گا۔ |
| |
| Mukhlis Rahi |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-سمیع اللہ۔ راولپنڈی،میں نے پاکستان میں کئی بار ریل کا سفر کیا ہے، لیکن خود ریل میں سفری مشکلات اس قدر زیادہ ہوتی ہیں کہ بیان سے باہر ہیں، چھتیں باتھ روم کی ٹپکتیں رہتی ہیں، کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، نہ سگنل ڈھنگ کے ہیں اور نہ نظام حادثے تو ہوں گے یہ حادثہ انہی خامیوں کی طرف اشارہ ہے، |
| |
| sami-ullah |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-حسین کاظمی۔ اٹلی۔ریلوے کا فرسودہ نظام اور غفلت دونوں ہی حادثات کا اصل سبب ہےجب تک کرپشن ختم نہ ہوگی نہ نظام اچھا ہوگا اور غفلت کاہلی کم ہوگی حکمران مزے کرتے ہیں اپنا پیٹ بھرتے ہین انہیں اپنی ذمہ داریوں کا کیا پتہ اندازہ ہونا چاہیئے کہ وہ کیا کارکردگی دکھلائیں گے |
| |
| Hussain Kazmi |
Posted on: Thursday, November 05, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-ثاقب، کراچی، ریلوے کے وزیر جو کچھ کرتے ہیں اس کا نادازہ ہے جب انہوں نے ایک خاتون کو ملازمت سے باہر کیا، اس سے ان کی کاررکدگی کا اندقازہ لگایا جاسکت ہے ریلوے منسٹر اپنی کاکردگی دیکھیں پھر بات کریں یہ حادثہ بھی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے، |
| |
| saqib |
Posted on: Friday, November 06, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-محسن عباس، الخبر، اگر بشیر احمد بلور جیسے لوگ اس محکمہ کے منسٹر ہیں جو اپنی ذمہ داریاں نبھانا نہیں جانتے،حادثات تو ہوتے رہین گے،وہ اپنی منسٹری سنبھال لیں یہی کافی ہے،۔دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانا چھوڑدیں۔ جس کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتے۔ |
| |
| Mohsin Abbas |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-حسان طاہر، فیصل آباد، پاکستان ریلوے نے اپنی سالانہ حادثوں کی روایت برقرار رکھی ہے زندہ باد پاکستان ریلوے۔ اور اس کا نظام۔ |
| |
| حسا ن طا هر |
Posted on: Saturday, November 07, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-یاسر عزیز چودھری، دوبئی، میں نے اپنی زندگی کے سات قیمتی سال کراچی اور روالپنڈی میں گذارے ہیں اور ریل کے سفر کئے ہیں، لیکن اب ریل میں تل دھرنےے کی جگہ نہیں ہوتی،آخر یہ کمایا ہوا پیسہ کہاں جاتا ہے،؟یہ حادثہ بھی لاپروائی کا نتیجہ ہے ریلوے عوام کو تکلیف ہی دے رہی ہے، |
| |
| yasir aziz chaudhry |
Posted on: Thursday, November 05, 2009 |
|
 |
 |
 |
Page 1 of 1
|
|