لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 


چینی کا بحران،حکومت بے بس! Share
عدلیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق کہ ملک بھر میں چینی مارکیٹ میں 40 روپے فی کلو گرام سے زیادہ ہرگز فروخت نہیں کی جائیگی کے باوجود ملک بھر خصوصاً سندھ میں ابھی تک عدلیہ کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا اور عام مارکیٹ میں آج بھی چینی 50 روپے کلو گرام فروخت کی جارہی ہے۔اس مد میں آخر کار عدلیہ کی جانب سے بھی یہ ریمارکس منظر عام پر آگئے کہ صوبائی حکومتیں بری طرح ناکام ثابت ہوچکی ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ صوبائی حکومتیں جن کی زیردست پولیس فورس اوررینجرز کے ہوتے ہوئے بھی عوام کو ریلیف دیئے جانے سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا اس ضمن میں کئے جانے والے جنگ سروے کے مطابق ملک کے غریب عوام کو انتہائی بااثر ملک و سماج دشمن فیکٹر جو حکومتی رٹ کوبھی خاطر میں نہیں لاتے ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ غالب گمان ہے کہ ایسا سماج دشمن فیکٹر جس پر نہ صرف حکومت قابو پانے میں بے بس نظر آتی ہے بلکہ اس بے لگام فیکٹر نے عدالتی احکامات کو ماننے سے بھی صاف انکار کردیا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ بے لگام فیکٹر اقتدار ہی میں موجود ہو ورنہ کیا وجہ ہے کہ حکومت ان کے سامنے بے بس نظرآتی ہے۔ ہمارا ملک نہ صرف خالصتاً زرعی ملک ہے بلکہ سرزمین وطن بفضل خدا ہر نعمت سے مالا مال ہے لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے اس زرعی ملک کے باشندے حاصل آزادی کو 62 سال گزرنے کے ساتھ ساتھ ضروریات زندگی سمیت بنیادی ضروریات آٹا ہویاچینی، گھی ہو یا دالیں غرضیکہ ہرخوردو نوش کی اشیائے صرف کی ہوشربا قیمتیں غریب اور متوسط طبقے کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں جبکہ دوسری جانب پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے بذریعہ میڈیا اسلام آباد کو آفر کی گئی ہے کہ وہ اشیائے خوردونوش خصوصاً آٹا اور چینی کیلئے بجائے سمندر پار ملکوں سے رابطہ کرکے اپنے پڑوسی ملک بھارت سے آٹے اور چینی کی خریداری کیلئے رابطہ کریں حکومت بھارت کے مطابق ہم پاکستان کو مطلوبہ ضروریات کے مطابق آٹا اور چینی اس قدر سستا فراہم کرسکتے ہیں کہ ہماری برآمد کردہ معیاری چینی اور اے ون معیاری آٹا پاکستان کے غریب عوام کی دسترس سے بھی باہر نہیں ہوگا۔ ہمارا مجوزہ برآمد کردہ آٹا پاکستان کی عام مارکیٹ میں 19 روپے اور چینی 25 روپے فی کلو گرام دستیاب ہوسکتی ہے۔ پڑوسی ملک بھارت کی یہ پرکشش پیشکش اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آج 62 سال بعد بھی بین الاقوامی سطح پر بھارت کہاں اور پاکستان کہاں کھڑا ہے۔

کیا حکومت واقعی شوگر ملزمالکان کے سامنے بے بس ہوگئی ہے؟

آپ کے خیال میں چینی کے بحران پر کس طرح قابوپایا جاسکتا ہے؟

بھارت کی پیشکش قبول کی جاسکتی ہے؟

اپنی رائے سے آگاہ کریں  
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 21 ) احباب کو بھیجئے
 
  ShareThis

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard


محمد اعظم رشید، فیصل آباد، یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے،ان سیاسی لیڈرز کی کرپشن ہے،حکومت اور عہدیداران سب مزے کر رہے ہیں، لیکن عوام تکلیف میں ہیں،-حکومت بظاہر بے بس نظر ااتی ہے لیکن اپنے مفاد کے سارے کام کرتی ہے،
 
Muhammad Azam Rasheed Posted on: Sunday, November 01, 2009


-محسن عباس۔الخبر، یہ بحران حکومت کو خود ہی پیدا کردہ ہے حکومت کو معولم ہونا چاہیئے کہ عوام اندھے بہرے نہیں ہیں ، حالات کو سمجھ رہے ہیں،چینی عوام کو نہیں مل رہی ہے جو بھی قصور وار ہے وہ موجودہ حکومت ہے،سپریم کورٹ کے حکم کی حکم عدولی سے ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کا حترام کتنا کیا جاتا ہے،
 
Mohsin Abbas Posted on: Saturday, October 31, 2009


-نازلی،لاہور۔ یہ سارا بحران خود حکومت کا پیدا کردہ ہے حکومت اتنی با اختیار ہوتی تو یہ نہیں ہوتا جو آج دیکھنے میں آرہا ہے
 
nazli Posted on: Friday, October 30, 2009


-ثناء، لاہور،دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا،اتنی مہنگائی بھی کہیں نہیں ہوتیں،ہماری حکومت بے بس ہے وہ کچھ نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا ہوا، کیاعوام کو چینی مل گئی، اللہ سے دعاء کرسکتے ہیں،
 
sana Posted on: Thursday, October 29, 2009


-محمد وسیم خان، کراچی، ماشاءاللہ اس ملک کو نظر نہ لگے، اس ملک میں کیا کچھ نہیں ہے اللہ تعالی کا دیا سب کچھ ہے، لیکن ہم نے قدر نہین کی،یہ جو ملک میں بحران ااتے ہین یہ حکومت کے اپنے بنائے ہوئے ہوتے ہیں، چینی آتا سب کچھ مل سکتا ہے اگر ذاتی مفاد نہ ہو تو،
 
MUHAMMAD WASEEM KHAN Posted on: Thursday, October 29, 2009


-اے جے بابر ، فلپائن، اگر چینی خریدنا ہی ہے تو کسی بھی ملک سے خریدسکتے ہین بھارت ہی کیوں؟ خریدنے میں دیر کیوں،عوام کی تکلیف کو سمجھیں،
 
a j babar Posted on: Wednesday, October 28, 2009


-فہدخان، شکاگو،حکومت بے بس نہیں ہے وہ یہ چاہتی ہے کہ ملک میں ہر طرح کا بحران رہنے سے پتہ چل سکے گا کہ حکومت میں کیا ہورا ہے،اور کیسے چل رہی ہے، عوام کو ریلیف نہیں ملے گا تو وہ بارہا حکومت ہی کو یاد کرین گے کینکہ ہم ایک زرعی ملک ہیں،
 
Fahad Khan Posted on: Tuesday, October 27, 2009


-عمران، دوبئی، جب تک ہم اپنی اصلاح نہیں کرین گے کسی کو برا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ چینی کا بحران خود ہمارے حکمرانوں کا پیدہ کردہ ہے،اللہ سے پناہ مانگیں ۔ اپنی قوم کے لئے کچھ کریں انہین پریشان کرکے کچھ فائدہ نہیں ہوگا،اللہ ہمیں ہدایت فرمائے
 
Imran Posted on: Tuesday, October 27, 2009


-آصف، کراچی،یہ صرف حکومت کا پروپیگنڈا ہے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے، ایسے سیاستدان جو اراکین پارلیمنٹ ہیں ان کے شکر کے خارخانے ہیں کیا ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔ جو ہم باہر سے خریدنے کی باتیں کررہے ہیں،
 
Asif Posted on: Tuesday, October 27, 2009


-محمد شبیر غوری، لاہور، یہ سب سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے ملک میں چینی کا بحران نہیں ہے۔ منافع خورون کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں ان مکے خلاف کارروائی سے گریز کرتے ہیں، باہرسے چینی خریدنے کا ارادہ فضول ہے،
 
Muhammad Shabbir Ghouri Posted on: Tuesday, October 27, 2009


-نعیم امین صابر، ملایشیاء، ہمیں یہ بتایاجائے کہ ہمارے ملک میں حکومت کتنی خود مختار ہے؟ سوائے کرپشن کے اور کیا ہے۔ امریکیوں کے ساتھ لگائو ہے یا عوام کے ساتھ،
 
Naeem Amin Sabir Posted on: Tuesday, October 27, 2009


-شاہ زیب ملحی ،کویت،پاکستان میں کونسی چیز سستی ہے بجلی پانی اور اب چینی کی قلت ایک اور عذاب سے کم نہیں ہے پڑوسی ملک میں چینی ہمارے ملک کیچینی کی قیمتوں سے کم ہے، وہاں سے امپورٹ کرنا ہی بہتر رہے گا یہاں سب نے کوشش کرلی لیکن منافع خوروں نے حکومت کو بے بس کرکے رکھ دیا ہے،
 
shazab_mallhi Posted on: Monday, October 26, 2009


-مخلص راہی، کراچی، بھارت سے مدد لینے کی کیا ضرورت ہے، کیا عدلیہ آزاد نہین ہے جو اس کے حکم پہ کام نہیں ہورہا ہے،اب تو چیف جسٹس بحال ہوچکے ہیں،
 
Mukhlis Rahi Posted on: Monday, October 26, 2009


-عبدل لطیف خٹک، دوبئی، کاشتکار حضرات آئندہ مل مالکان کو گنا دینا بند کردیں،تاکہ یہ منافع خوروں سے نجات مل سکے۔کتنی عجیب بات ہے کہ چینی بیرون ملک سے منگوانے کی باتیں ہورہی ہیں، لیکن حکومت کی بے بسی کھل کر سامنے آگئی ہے،
 
Abdul latif khattak Posted on: Monday, October 26, 2009


-عبدل لطیف خٹک،دوبئی۔بھارت سے چینی منگوانے کا مشورہ دیا جارہا ہے یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے، خود حکومت کو بھی احساس نہیں کہ وہ کیا کر رہی ہے عوام چینی کے لئے مجبور ہیں لیکن مالکان قیمت کم کرنے تیار نہیں ہیں، یہ حکومت کی بے بسی نہیں ہے تو اور کیا ہے،
 
Abdul latif khattak Posted on: Monday, October 26, 2009
Prev | 1 | 2 | Next
Page 1 of 2


ہاری ہوئی ٹیم ۔۔۔جواری ہوئی ٹیم؟
الطاف حسین نے مارشل لاء جیسے اقدام کی حمایت کیوں کی ؟
سیالکوٹ واقعہ ایک لمحہ فکریہ!
نوجوان بولر وہاب ریاض کی شاندار پرفارمنس
سیلابی پانی کا رخ موڑنے کی سیاست!
 
کرکٹ اور ٹینس کا تاریخی بندھن
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 2055 )
بالآخر” جیو“ کو بند کردیا گیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 515 )
جیو نیوز کی نشریات پر پابندی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 503 )
جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 452 )
میڈیا پر پابندیاں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 416 )
 
 
 
 
 
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy