Saturday, November 21, 2009
Jang Blog
 
 
 
لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 


زرداری کی نوازشریف کو پھر یقین دہانی! 
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔ دونوں لیڈروں نے ملک کی سیاسی اور سیکورٹی کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔ 17 ویں ترمیم کا خاتمہ اور میثاقِ جمہوریت پر عملدرآمد کے معاملات ان کی بات چیت کا محور تھے۔ مسلم لیگ ن نے صدر زرداری پر زور دیا کہ وہ17 ویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، این آر او پر پارلیمنٹ کو امتحان میں نہ ڈالیں، اپناکیس عدلیہ کے سامنے لڑیں،17 ویں ترمیم کے فوری خاتمے کے اقدامات تک اعتماد کیلئے تیار نہیں،صدر زرداری نے اس موقع پر نواز شریف کو پھر یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں گے،انہوں نے مہمان رہنما کو بتایا کہ پوری طرح سنجیدہ ہوں ،پارلیمانی کمیٹی کام کر رہی ہے، سفارشات کی روشنی میںآ مرانہ دور کی ترامیم ختم کردی جائیں گی، صدر نے اس موقع پر نواز لیگ کے رہنما کو ایک مرتبہ پھر شراکت اقتدار کی پیشکش کی۔ مبصرین کے مطابق صدر زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان تقریباً تین ماہ کی سرد مہری کے بعد یہ ملاقات سیاسی تناظر میں ایک بڑا بریک تھرو ہے۔ بعد میں صدر نے میاں نواز شریف کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی مفاہمت کی کوششوں میں اہم پیشرفت کے لئے صدر زرداری سے میاں نواز شریف اپنے ہمراہ دو نکاتی ایجنڈا لے کر گئے تھے، صدر زرداری سے کہا گیا کہ وہ زیر التواء معاملات، 17 ویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، جس کے جواب میں صدر کا کہنا تھا کہ وہ ان دونوں معاملوں پر پوری طرح سنجیدہ ہیں۔صدر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ میاں نواز شریف نے صدر کو مشورہ دیا کہ این آر او کے معاملے میں پارلیمنٹ کو امتحان میں نہ ڈالا جائے بلکہ صدر زرداری اپنا کیس عدلیہ کے سامنے لڑیں۔ قوم نے این آر او کو پسند نہیں کیا۔ صدر زرداری اور حزب اختلاف کے رہنما میاں محمد نواز شریف کے درمیان تقریباً 100 دن کے وقفے کے بعد 26 اکتوبر کو ملاقات ہوئی۔ ملک کے دونوں اعلیٰ سیاسی رہنما آخری بار جاتی امراء میں 7 جولائی کو ملے تھے اور یہ ملاقات جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے کارگر ثابت نہیں ہوئی تھی۔ ن لیگ کی قیادت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ صدر جب تک 17 ویں ترمیم ختم کرنے کیلئے فوری اقدام نہیں کرتے، ن لیگ ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔

قومی امور پر سیاستدانوں کے بے نتیجہ مذاکرات کس بات کی طرف اشارہ ہے؟

آصف زرداری اپنے وعدے پورے کریں گے یا پھر ؟

دونوں رہنماؤں کی حالیہ ملاقات پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ 
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 41 ) احباب کو بھیجئے
 


-حسنین کاظمی، اٹلی،یہ سب قو کی اانکھوں میں دھول جھونکنے والے لوگ ہین انہیں عوام سے کیا مطلب،کیا ان میں کوئی بھی کرپشن سے پاک ہے؟یہ قوم کی سادگی سے کھیل رہے ہیں،کاش قوم ہی بیدار ہوجائے اور انہیں پہچانے،یہ ملاقات ذاتی مفادات کی ملاقات تھی۔ اور کچھ نہین،قوم صحیح نمائندے منتخب کرے،
  Hussain Kazmi


-وقاص، لندن، یہ سب ایک جیسے ہی ہیں، بڑے بڑے بینک بیلنس رکھنے والے لوگ عوام اور ملک کے وفادار ہوسکتے ہین،یہ خود اپنے مفادات کی حفاظت کرنا جانتے ہیں لیکن عوام کو ریلیف نہیں دینا چاہتے ہیں،
  waqas


-عمران ۔ لندن، یہ دونوں سیاستدان صرف اپنا مفاد دیکھ رہے ہیں نہ ان کی کوئی قومی پالیسی ہے اور یہ ملک کے لئے سنجیدہ ہیں،ان پہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
  Imran


-احمد۔ ملایشاء۔یہ ملاقاتیں ہمارے لئے کس کام کی، اس میں کہاں عوام کے مفاد کی بات کی گئی ہے یہ لوگ خود ملک یا عوام سے کتنے سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ ہوجانا چاہیئے
  ahmed


-خالد محمقود، سینیگال۔یہ دونوں عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں اور کچھ نہین یہ عوامی مسئل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں،
  khalid mahmood


-نثار عباس، ریاض، زرداری صاحب کو اس معاملہ میں محتاط رہنا چاہیئے۔ کیونکہ سیاست میں مسائل حل کرنے کے لئے پیش رفت ضروری ہے،قدم بڑھائو نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں،
  Nisar Abbas


-ثاقب۔ کراچی، نواز شریف کی ملاقات کا مقصد اپنی عرضداشت پیش کرنا تھا، اور زرداری نے مسکرا کر ٹال دیا،
  saqib


-محسن عباس،الخبر، یہ صرف عوام کو بے وقوف بناے کی باتیں ہیں، یہ اپنے عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں،اس ملاقات کا مقصد ذاتی مفاد کی حفاظت کرنا ہے،
  Mohsin Abbas


-فیاض، کینیڈا،یہ دونوں صرف اپنی حکومت بچانے کے لئے متحد ہوئے ہیں،یہ ملاقات صرف اور صرف ذاتی مفاد کی ملاقات تھی،
  FAYYAZ


-قمر الدین، کراچی، نشتند گفتند خوردن اور برخاستن۔ اس کے سواء اور کیا تھا،
  QAMARUDDIN


-سید اطہر علی، کراچی، دونون سیاسی رہنمائوں کو عوام کی تکلیف کا احسا نہین ہے یہ سب اپنے مفاد کے لئے ملتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ شدت پسندون کی مذمت کرتے ہین اور نہ عوام کا ساتھ دینی کی باتیں کرتے ہین لیکن عملی اقدام نہیں کرتے،
  Syed Ather Ali


-ذکی، آسٹریلیا،جب حکمران کرپٹ ہوں تو ان سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے، رہی بات زرداری کی تو وہ جو چاہیں گے وہی کریں گے
  zaki


-عبدل باسط، فیصل آباد، اس ملاقات کا مقصد کیا تھا، عوام کی ریلیف کی بات نہیں کی گئی، یہ سب ٹوپی ڈرامہ تھا،
  Abdul Basit


-شاہد، دمام، اس ملاقات میں انہیں صرف اپنے مفاد کا خیال تھا، عوام کا نہیں جس سے بڑی مایوسی ہوئی ہے یہ عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے،
  Shahid


-شہزاد، بحرین، نواز زرداری ملاقات در اصل اس وعدے کی تجدید ہے کہ جمہوریت کی گاڑی چلتی رہے عوام کے ریلیف کے لئے ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ عوام سے کتنے مخلص ہیں،
  Shahzad
Prev | 1 | 2 | 3 | Next
Page 1 of 3


تازہ بلاگ
ایک کھرب 65ارب روپے ہضم
عوام کو بجلی کا ایک اور جھٹکا!
چینی کابحران اور عوام پریشان!
ملکی سلامتی اور پاک فوج کا عزم
پاکستان میں کرپشن لمحہ فکریہ!
صدر اوباما کا صدر آصف زرداری کو خط
شادی ہالز کی تقریبات پر وقت کی پابندی
سیکیورٹی کے نام پراسکول فیس میں اضافہ؟
محمد یوسف ٹیسٹ سیریز کیلئے کپتان مقرر
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات
مزید بلاگِ   َ
 
Jang Blog - Best blogspot of Pakistan - Discuss issues, news, problems, sports - Pakistani forum
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy