|
|
این آر او کی منظوری! |
Share |
|
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او)کی کثرت رائے سے منطوری دے دی ہے۔ قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے قانون و انصاف نے بدنام زمانہ این آر او سے مستفید ہونے والی اعلیٰ ترین شخصیات کو بچانے کیلئے سفارش کی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اس قانون کے موٴثر ہونے کی ابتدا اور انتہا کیلئے جو تاریخیں مقرر کی تھیں انہیں ختم کر دیا جائے تاکہ ہر خاص و عام مجرم اس سے فائدہ اٹھا سکے اور ان اعلیٰ عہدوں پر براجمان افراد پر انگلیاں اٹھنی بند ہو جائیں۔ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے وزیر مملکت برائے قانون محمد افضل سندھو نے دی نیوز سے باتیں کرتے ہوئے خم ٹھونک کر اعتراف کیا کہ بدنام زمانہ قانون کی شق نمبر سات میں وڈدرال اینڈ ٹرمینیشن آف پروسیڈنگز کے سیکشن میں نئے نکات کی شمولیت کے ذریعے این آر او میں ترمیم کر دی گئی ہے جس کے تحت پرویز مشرف کی متعین کردہ تاریخوں یکم جنوری 1986 سے پہلے اور 12 اکتوبر 1999ء کے بعد رجسٹر ہونے والے مقدمات بھی عدالتوں کے ذریعے بند کرائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے ”پبلک آفس ہولڈر“ کے الفاظ کے بعد ”اینڈ اینی اور پرسن“ کے الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ صرف سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کے علاوہ ہر کس و ناکس این آر او سے مستفید ہو سکے۔ اس طرح یہ ایک مستقل این آر او کی شکل اختیار کر لے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اگر کسی عام شہری کے خلاف اس وجہ سے کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے کہ وہ کسی عوامی عہدے کے حامل شخص کا رشتہ دار ہے تو اس ترمیم کے تحت وہ مقدمہ خارج کیا جا سکے گا اور ایک ریویو بورڈ کے سامنے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے گا اور اس ترمیم شدہ قانون کا نفاذ نومبر میں متوقع ہے تاہم اس سے قبل اس مسودے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کا اجلاس 2 نومبر سے ہو رہا ہے۔ سندھو نے بتایا کہ مجلس قائمہ نے 5 شقوں کی اکثریت سے منظوری دی جبکہ کل 7 میں سے دوشقیں شق نمبر 2 اور شق نمبر 7 زیادہ اہم ہیں اور شق نمبر ایک سے تین اور 6 سے7 کی منظوری اکثریت سے دی گئی ہے مشق نمبر 4 اور 5 حکومت نے واپس لے لی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شق 7 کے ذریعے این آر او کے نافذ العمل ہونے کی تاریخ 5 اکتوبر 2007 کے بعد کسی بھی شخص کو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ جائز اور قانونی متصور ہو گا۔
کسی بھی شخص کو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ جائز اور قانونی متصور ہو گا؟
این آر او کو پارلیمنٹ سے منظورکرایا جاسکے گا؟
اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
|
|
|
 |
 |
-شفیع اللہ پشاور۔ موجودہ حکومت این آر او کے تحت وجود میں آئی تھی ،اور اب وہ اپنے آپ کو گنگا نہائے ہوئے سمجھتے ہیں،اب یہ گنگا زیادہ دیر تک نہیں بہے گی،اور جلد ہی عوام اس کا رد عمل ظاہر کریں گے اور یہ سب اس میں ڈوب جائیں گے |
| |
| Shafiullah |
Posted on: Saturday, November 07, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-مقصود علی خان، لاہور، اگر یہ این آر او قومی مفاد میں ہے تو اسے ضرور پارلیمنٹ میں لایا جائے لیکن اسے متنازعہ نہ بنایا جائے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔ |
| |
| maqsood ali Kan |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-فاروق علوی، کراچی،یہ سب پیپلز پارٹی کو نیچا دکھلانے کی کوشش ہے جس کی ڈور پنجاب سے ہلائی جارہی ہے، این آر او کو سبب بناکر سیاست کو نئی راہ پہ ڈالدیا گیا ہے، |
| |
| فاروق علوی |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-خدا بخش جونیجو۔ نواب شاہ، اصل سیاست تو اب شروع ہوئی ہے قومی اسمبلی میں این آر او پیش کرنے کا مطلب کرپشن اور فائدہ حاصل کرنے کو منظر عام پر نہیں لانا ہے، اس کے پیچے ایک بات اور بھی ہے کے صدر کو نشانہ بنانے سے حکومت کو ہلانا پنجاب کی سیاست ہے۔ این آر او لانے یا نہ لانے سے کھ نہیں ہوگا۔ |
| |
| خدا بخش جونیجو |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-محمود خان،حیدر آباد، این آر او سے عوام کو کیا فائدہ، یہ بڑے لوگوں کا کھیل ہے، حکومتی عہدوں پر فائز لوگ ہی اس کامفہوم سمجھتے ہیں،عوام کو بجلی پانی آتا اور چینی چاہیئے،وہ این آر او پہ لعنت بھیجتے ہیں، |
| |
| محمود خان، |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-مسعود نقوی، کراچی،این آر او پر بحث ختم ہوجانی چاہیئے کیونکہ اب یہ مسئلہ نہیں رہا، این آر او کے تحت واپس آنے والے کیوں شور مچارہے ہیں،فائدہ تو ان سب نے بھی اٹھایا ہے، الیکشن لڑتے وقت خیال نہیں آیا؟ جو مشرف صاحب کے دور میں ہوئے۔ صرف اپنے مطلب کی سیاست ہورہی ہے، اور کچھ نہیں، |
| |
| مسعود نقوی |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-سہیل مرزا، خیر پور، جب ہم پاکستان کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ صرف اپنا مفاد سوچتے ہیں، ہمیں ایک قوم بننے کی ضرورت ہے، ورنہ این آر او جیسے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے، سب سے پہلے پاکستان، زندہ باد |
| |
| SOHAIL MIRZA |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-علی رضاء۔ راولپنڈی، این آر او کے معاملے پر نواز لیگ تعصب اور منافقت سے کام لے رہی ہے، |
| |
| ali raza |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-ابرار محمد،، چکدار۔این آر او کے قانونی نفاز کے عمل سے تمام سیاستدانون کو فائدہ ہوگا، کیونکہ وہ اس ملک کے مفاد کا نہیں سوچ رہے ہیں،ادھر غریب عوام ان سیاستدانون کو ووٹ دے کر پچھتا رہے ہیں،صرف عوام ہی اس کے خلاف قدم اٹھا سکتے ہیں،اس این آر او سے فائدہ اٹھانے والے مزے کر رہے ہیں، |
| |
| Abrar Muhammad |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-ایم نصر اللہ خان،اسلام آباد، این آر او کا صحیح استعمال یہ ہے کہ وہ مقدمے جو سیاسی مخالفت کی وجہ سے قائم کئے گئے تھے اور وہ ثابت نہیں ہوسکتے اب سیاست بناکر استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ صدر کا تعلق ایک صوبہ سے ہے، اس لئے وہ اسے برداشت نہیں کر رہے ہیں، حالانکہ فائدہ انہوں نے بھی اٹھایا ہے، بڑا صوبہ چھوٹے صوبے کی حکومت کا قیام برداشت نہیں کر رہا ہے وہ نہیں چاہتا کہ ا ن کا احساس محرومی دور ہو،
|
| |
| M.Nasrullah Khan |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-صفدر عباس،لاہور، پاکستان کی ڈری سہمی مجبور اور سست عوام کے لئے خوش خبری ہے کہ این آر او مسلط کرنے کی کوشش کے باجود بھی اس کا نفاذ ناممکن ہوگا، |
| |
| safdar abbas |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-فرحت، کراچی، این آر او منظور ہونے کے بعد یہ بات کفی حد تک ممکن ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ جائز اور قانون بن جائے گا۔ مگر یہ وقت کی ضرورت ہے کہ آگے بڑھ جائے، کیونکہ اب ی متنازعہ معاملہ بن چکا ہے، فائدہ اٹھانے والے ہی در اسل اس کی مخالفت کر رہے ہیں،جاگو کہ ایک بار پھر ملک کو کرپشن سے بچانے کا وقت آگیا ہے، |
| |
| FARHAT |
Posted on: Monday, November 02, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-عبدل المعروف، یو ایس اے،یہ ہماری قوم کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ ہے،یہ تو وہی لوگ ہیں جو اس لوٹ کھسوٹ کے بعد خود کو منظر عام پر نہیں لانا چاہتے،اب تو پاکستان میں
کسی خمینی کی ضرورت ہے، اللہ پاکستان پہ اپنا رحم فرمائے |
| |
| abdul maroof |
Posted on: Monday, November 02, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-رمیض، بھاولپور،جو بھی لوگ این آر او پر بحث کر رہے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتا ہون کہ کیا اس وقت یہی ہمارے ملک کا مسئلہ ہے کیا ایک پاکستانی شہری کو اس سے کوئی نسبت ہے؟ یہاں تو عوام کو ریلیف تک حاصل نہیں ہے، اور نہ ہی اس میں کسی نے دلچسپی لی ہے۔ چاہے جنرل مشرف ہوں یا زرداری، |
| |
| Rameez |
Posted on: Monday, November 02, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-آفتاب لطیف،کراچی،اس بات پر تبصرہ کیا کرین بھائی میں نے یونس بٹ کا لکھا پڑھا تھاکہ شیطان بھی برگزیدہ بندوں پر کتابیں نازل کرتا ہے،یہ این آر او بھی اسی قبیل سے متعلق ہے، اضافہ صرف اتنا کرنا چاہوں گا کہ صرف کتابیں ہی نہیں بلکہ وحی بھی، دل میں ڈالتا ہے اور یہ سب ہمت کرنے سے اسی سے متلعلق لگتے ہیں،
|
| |
| آفتاب لطيف |
Posted on: Monday, November 02, 2009 |
|
 |
 |
 |
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | Next Page 1 of 4
|
|