|
| کپتانی کا تلخ تجربہ؟ |
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے کہا ہے کہ قیادت کا تجربہ خاصا تلخ ثابت ہوا جس کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ قومی ٹیم کی قیادت نہیں قبول کروں گا۔ یونس خان کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہوں۔ جیو سپر کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ قیادت کے دور میں مجھے اچھا تجربہ نہیں ملا میں اور میرے گھر والے بھی کپتان پر تنقید اور دیگر حوالوں سے سخت دباؤ میں رہتے تھے۔ شعیب ملک نے کہا کہ یہ باتیں درست نہیں کہ لاہور میں بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کے ساتھ ملاقات میں، میں نے انہیں یونس خان کو ہٹا کر شاہد آفریدی کو قیادت سپردکرنے کا مشورہ دیا، اس قسم کی باتیں درست نہیں اور نہ ہی میں کپتان یونس خان کے خلاف کوئی لابنگ کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں کپتان یونس خان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔
شعیب ملک کے اس تجربے پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ |
 |
 |
-تسکین عباس، سرگودھا،یہ شعیب ملک کی جانب سے ایک مثبت سوچ ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا یہ تجربہ ناکامی سے دوچار ہوچکا تھا۔ |
| |
taskeen abbas |
 |
 |
 |
 |
 |
-نجیب الرحمن،لاہور، بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، |
| |
نجیب الرحمٰن |
 |
 |
 |
 |
 |
-ضیاء خان بٹگرام، جی ہاں یہ بہ اچھی بات ہے کس کا انہیں احساس ہے، اور ایدا ہی ہونا چاہیئے کسی بھی قسم کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ دینا چاہیئے بجائے اس کے ہم ایکدوسرے کی ٹانگ کھینچیں، شعیب ملک کا کہنا درست ہے، |
| |
zia khan |
 |
 |
 |
 |
 |
-حسنین کاظمی،اٹلی، ہمارے ملک میں کوئی ایسا انسان نہیں بستاجس کو اس کی فیلڈ میں تجربہ نہ ہو، ساری قوم کو حسد اور بغض کی آگ نہ جلارکھے، اللہ کریم ہے اس قوم پہ اپنا رحم فرمائے آمین۔ |
| |
Hussain Kazmi |
 |
 |
 |
 |
 |
-فرحان احمد خان، لاہور۔پاکستان مین کپتان بننے کا شوق ہرسکی کو ہوتا ہے اس میدان میں شعیب ملک مار کھاگئے ، کیونکہ وہ بورڈ کی سیاست کو نہین سمجھ سکے، یہاں کپتان وہی کامیاب ہے جو سیاست سے کھیلنے کا شوق رکھتا ہو، اس مین شعیب ملک کا کیا قصورؕ |
| |
فرحان احمد خان |
 |
 |
 |
Page 1 of 1
|
|