|
|
این آر او پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنیکا فیصلہ! |
Share |
|
ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور نئے سیاسی بحران سے بچنے کے لئے حکمران جماعت این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہو گئی ہے اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ این آر او پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جائے گا۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق یہ فیصلہ حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد اعلیٰ سطح پر منعقدہ قیادت کے اجلاس میں کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے اجلاس کی صدارت کی۔ ایوان صدر کے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مانیٹرنگ سیل کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عوام کو اصل حقائق سے ہٹانے کے لئے سیاست کو ہمارے گرد گھمایا جا رہا ہے۔ ایوان صدر میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی طاقت کے بل بوتے پر ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔ عوام اتحادیوں اور پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ این آر او پر قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔ صدر نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ 1973ء کے آئین کو اصل حالت میں بحال کروائیں گے۔ پی پی پی جمہوریت دوست جماعت ہے۔ دریں اثناء صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، مولانا فضل الرحمن اور فاروق ستار نے علیحدگی میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں این آر او پر مشاورت کی گئی۔ صدر نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کو تحفظات ہیں تو بیٹھ کر ان کو دور کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس (ر) ڈوگر کی مدت ملازمت ختم ہونے پر عدلیہ کو بحال کرنا تھا لیکن لانگ مارچ شروع ہو گیا۔ مخالفت کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ اس طرح حکومتیں ختم نہیں ہوتیں۔نمائندہ جنگ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ حکمران جماعت کے اتحادیوں میں این آر او کے سلسلے پر اختلافات اور ان میں پھوٹ پڑنے کے بعد حکمران جماعت کی قیادت این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہو گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں نے اس معاملے پر اتحاد کر لیا تھا اور متحدہ حزب اختلاف کی صورت میں ایک نیا الائنس بنانے کی تیاریاں ہورہی تھیں، حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں مبصرین کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتیں بھی کوئی نئی حکمت عملی طے کریں گی۔
کیا این آر او پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کی شکست ہے؟
اس فیصلے سے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
حکمرانوں کو این آر او کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ نہیں دینی چاہئے؟
اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
|
|
|
 |
 |
-تنویر احمد،شارجہ، این آر او سے ہم رات کے اندھیروں میں اپنے اہل و عیال ساتھ آرام کی نیند سوئیں، شاہی محل میں سکونت اختیار کرین،اسی کے تحت دوبارہ الیکشن میں آئیں، اور اسمبلیوں کے مزے لوٹیں۔ یہ جو آج مزے کر رہے ہیں وہ اسی این آر او کے تحت ہورہا ہے جب گردن پھنس رہی تو اسے پارلیمنٹس میں نہیں لسنے دیا جارہا ہے لب لابا یہ ہے کہ جب اپنا مفاد ہو تو یہ قانون بھی کالا نظر آتا ہے جو کہ انہیں اس کی سفیدی دکھلارہا ہے، |
| |
| tanveer ahmed |
Posted on: Sunday, November 08, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-شعیب حسمن میر،لاہور، میرا خیال ہے کہ یہ اسے مردہ نہیں کہنا چاہیئے یہ وہ لوگ ہیں جو تھوڑا وقت یا مہلت چاہتے ہیں تاکہ دوبارہ اسے پیش کرسکیں، لیکن ایسا ہوگا کہ نہیں کہنا قبل از وقت ہے |
| |
| Shoaib Hassan Mir |
Posted on: Thursday, November 05, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-حشام، ریاض، یہ موجودہ حکومت کی بد ترین شکست ہےاین اار او ایک کالا قانون ہے جس سےہر کوئی فائدہ اٹھا چکا ہے ایسے لوگون کو سزا نہ دینا مجرموں کو تحفظ دینا ہے،پاکستان کو انہی لوگون سے بچاکر اچھا کام کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ سارے کام ذاتی مفاد کے ہیں اس میں عوامی مفاد کو نظر انداز کیا جارہا ہے |
| |
| Hashaam |
Posted on: Thursday, November 05, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-شعیب حسن میر،لاہور، اس وقت اس مردہ مسئلہ کو اٹھانے کا کیا فائدہ یہ کسی اور وقت کے لئے رجھا جائے فضول بحث سے کیا فائدہ |
| |
| Shoaib Hassan Mir |
Posted on: Thursday, November 05, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
محمد، کینیڈا، یہاں حکومت صحیح ہو ہی جائے گی اس معملہ میں سیاستدانوں کو بھی سوچنا چاہیئے جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے |
| |
| MUHAMMAD |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-خان، لاہور، کیاعلامہ اقبال کا پاکستان وہی ہے جس کا تصور پیش کیا گیا تھا ، یہاں اب کیا ہورہاہے؟ |
| |
| khan |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-عبدل لطیف خٹک، دوبئی،حکومت نے بہت زیادہ وقت ضائع کردیا اب عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا،بجلی پانی لوڈ شیڈنگ چینی اور آتا جیسی بنادی باتوں پہ غور کرے۔ این آر او سے عوام کو کیا واسطہ، |
| |
| Abdul latif khattak |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-جاوید حسین، راس الخیمہ، مجھے نواز شریف پہ فخر ہے کہ وہ اس این آر او کے مسلئہ پر ڈٹے رہے باقی سب عوامی موڈ دیکھ کر اس طرف راغب ہوئے یہ ن لیگ کا فیصلہ تھ جس نے حکومت کو مجبور کردیا یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے |
| |
| Javed Hassan |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-حیدر سید رضاء، سکھر، این آر او ہمارا اندرونی معاملہ ہے اس وقت ملک درپیش مسائل پر توجہ دینی کی ضرورت ہے،ان سے نمٹبا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،تاکہ عوام کو ریلیف ملے، |
| |
| hyder syed raza |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-ایم نصراللہ خان،اسلام آباد،این آر او کو موجودہ شکل میں پیش نہ کرنے کافیصلہ دانشمندانہ ہے، یہ جمہوریت کی جیت ہے،اس میں مناسب تبدیلیاں سب کو اعتماد میں لے کر کرنا چاہیئے پھر پارلیمنٹ میں لایا جائے |
| |
| M.Nasrullah Khan |
Posted on: Wednesday, November 04, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
ابرار احمد، دیر، جی ہاں این آر او پارلیمینٹ میں یش کرنے سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ حکومت ناکام ہوچکی ہے اس فیصلہ سے ہماری سیاست پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، لیکن عوامی مسائل جون کے توں رہیں گے۔ یہی امکان غالب ہے، |
| |
| Abrar Muhammad |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-مخلص راہی، کراچی،ہمارا مسئلہ اس واقت چینی آتا اور غذائی اجناس سے اور لوڈ شیڈنگ ہے اس بحران کو حل کرنے کی کوئی بات نہیں ہورہی ہے اصل معاملہ معیشت کی تباہی سے ہے کہ این آر او سے۔ |
| |
| Mukhlis Rahi |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-فرحت، کراچی، تمام سیاستدانوں کو ساتھ لے کر چلانے کے لئے خود ایک خوش آئند فیصلہ ہے حکومت کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے، یہ فیصلہ عوام کے لئے ان کی رائے کا مطابق ہے،اب عوام کے مسائل پر توجہ دینا حکومت کا اولین فرض ہے، |
| |
| FARHAT |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-انتظام،ریاض، یہ کسی صورت میں بھی حکومت کی شکست نہیں ہے بلکہ یہ ان غیر جمہوری عناصر کی شکست ہے، جن کے دور میں سیاسی جھوٹے مقدمات کو لے کر شور مچا رہے ہیں، پہلے عدلیہ کے مسئلہ پیش کیا گیا اور حکومت گرانے کی کوشش تھی،اس کے بعد کیرے لوگر بل اور این آر او پہ شور ہے، لیکن موجودہ حکومت کسی آمر کی پیداوار نہیں ہے یہ قربانیوں کی سزا بھگت رہی ہے |
| |
| intizam |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-عابد آزاد خان، لندن، این آر او اتنا ضروری نہیں جتنا عوامی مسائل حل کرنے کی باتیں، حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہیئے عوام کو بھی چاہیئے وہ ایسے لوگوں کو منتخب نہ کریں جو ان کے مسائل بھول جاتے ہیں، ایسے لوگوں کا بر وقت احتساب ہونا چاہیئے جو انصاف پر مبنی ہو، |
| |
| ABID AZAD KHAN |
Posted on: Tuesday, November 03, 2009 |
|
 |
 |
 |
Prev | 1 | 2 | Next Page 1 of 2
|
|