|
|
کیا یورپی یونین کی طرز پر مسلم یونین بن سکتی ہے؟ |
Share
|
|
فری لانس تجزیہ نگار محمد عاصم کی جانب سے ”جنگ “ کو ایک مضمون موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے مسلم امہ کی یکجہتی کے لیے مختلف امکانات پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک نے مشترکہ یونین کے پلیٹ فارم سے حالیہ برسوں میں بے مثال ترقی کی ہے۔ یورپین یونین کی مثال کو سامنے رکھتے ہیں مسلم ممالک میں اسی طرح کے اشتراک کی اہمیت اور ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ کئی ایک سروے رپورٹس میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر مصر سے پاکستان تک اسلامی ممالک مسلم یونین قائم کر لیں تو ایک دوسرے کو درپیش مشکلات سے مشترکہ کاوشوں کے ذریعے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔سروے رپورٹس میں ان مشترکہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مسلم امہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی ہے کہ وہ بھی سیاسی سماجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ معاشی اصلاحات کی طرف توجہ دیں تو خود کو معاشی استحکام سے ہمکنار کرسکتے ہیں اور وسائل کو بہتر طور پہ استعمال کرکے خود کویورپی ممالک کے قریب لاسکتے ہیں، قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود انہیں قابل ذکر نہ بنانا ہی ان کی اصل کمزوری ہے۔ یورپی یونین نے اپنی مشترکہ کاوشوں سے معاشی تعاون بڑھا کر اور ایک دوسرے کی ترقیاتی اسکیموں سے فائٴدہ اٹھا کر اپنی منصوبہ بندی کرتے ہوئے کام کیا اور ایک دوسرے کے تعاون کے ساتھ معاشی فوائد حاصل کرتے ہوئے ترقیاتی اہداف حاصل کئے۔ لیکن مسلم امہ وسائل کی موجودگی کے باوجود انتشار کا شکار رہی ہے، جہاں دہشت گردی کے علاوہ دیگر عوامل نے سر اٹھایا ہوا ہے۔ ایک سیر حاصل سروے کے مطابق یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ مسلم امہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے باہمی چپقلش سے دو چار ہے، تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں تساہل پایا گیا ہے ۔تاہم چندایک اسلامی ممالک نے ان سب باتوں سے درکنار تجارتی اور معاشی روابط کو بڑھایا۔ اپنے وسائل کو بہتر طور پہ استعمال کیا ۔ دنیا بھر میں تعلیم ،ٹیکنالوجی اور سائنس و انجینئرنگ کے شعبوں میں مسلم امہ کا ایک اچھا تصور موجود ہے لیکن اپنی حکومتوں کی جانب سے اچھی حکمرانی نہ ہونے کے سبب ان کی ترقی محدود ہوکر رہ گئی، حالانکہ وہ چاہیں تو ترقی یافتہ ممالک سے مدد لے سکتے ہیں تمام شعبوں میں ہر قسم کے سیاسی تناظر سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی، ماہر ین معاشیات ، معدینات اور دیگر سائنسی اصولوں کو اپناکر اپنے عوام کو ریلیف پہنچا سکتے ہیں۔ مسلم اور ایشائی ممالک میں اچھی افرادی قوت موجود ہے جہاں ہر قسم کے مواقع موجود ہیں ۔ مسلم ممالک متحد ہوکر ہی اپنے اہداف کے حصول میں ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ جرمنی، اٹلی، امریکہ، روس، انگلستان اور دیگر یورپی ممالک نے ماضی کی جنگوں سے نقصان اٹھانے کے بعد بھی تمام رنجشوں اور تلخیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہمی تعلقات کے ذریعے اپنی بہترین منصوبہ بندی معاشی تقاضوں کے مطابق اپنائی اور ترقیاتی منصبوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے دنیا کو آگاہی دی۔اپنے مالیاتی اخراجات کو دیکھتے ہوئے انہیں معاشی معاونت میں بہتر طور پہ استعمال کیا،اپنے پڑوسیوں سے تعلقات کو بہتر بنایاکیونکہ سماجی معاشی اور تجارتی تعلقات ہی قوموں کی زندگی میں اصل کردار ادا کرتے ہیں ۔آج جب کہ پوری دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے ۔کوئی بھی ملک تنہا رہ کر زندگی نہیں گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اچھی منصوبہ بندی ہی مالی بحران سے نجات کا سبب بن سکتی ہے ۔ یورپی یونین سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ مسلم ممالک بھی مشترکہ پالیسیاں اپناتے ہوئے مسلم یونین کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں ۔آپ کے خیال میں موجودہ صورتحال میں ایک مشترکہ مسلم ریاست یا خلافت کی تشکیل ممکن ہے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو مسلم ممالک کس انداز میں قریبی روابط کو فروغ دیتے ہوئے ایک دوسرے کی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
|
|
|
 |
 |
حافظ انعام الرحمن، کراچی، عاصم صاحب کی تجویز باکل صحیح ہے لیکن کیا کیجئے کہ ہم مسلم امہ خود کسی ایک نکتہ پر متفق نہیں ہیں، اور قیادت کے فقدان سے گذر رہے ہیں، ہم ایک خواب کی دنیا سے گذر رہے ہیں، حقیقت سے دور ہیں، اس تجویز پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے، |
| |
| hafiz inam-ur-rehman |
Posted on: Monday, June 14, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-حکیم عبدل سمیع، کراچی، یورپی یونین کی طرز پہ مسلم یونین کی تجویز بہت اچھی ہے، ہمارے پاس اچھے مدبر اور وسائل کی کمی نہیں ہے،اسے سلیقہ سے استعمال کرنا ہی عقلمندی ہے۔ اس مشورے پر عمل کرنا مسلمانوں ملکو کے لئے ضروری ہوگیا ہے،ہمیں اچھا رہنما چاہیئے، |
| |
| hakim abdul sami |
Posted on: Sunday, June 13, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-محمد عمران، فیصل آباد، ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیئے،اگر ہم سب مسلم ممالک مل کر اپنا آئندہ کا لانحہ عمل سوچیں اور اس پر عمل بھی کرین تو ترقی کرسکتے ہیں، کیونکہ سارے اسلامی ممالک اپنے وسائل کی بنیاد پر ایک اہمیت رکھتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ مسلم امہ ترقی کرے، ہمیں اجتماعی کوشش سے اپنی یونین بنانی چاہیئے |
| |
| muhammad imran |
Posted on: Saturday, June 12, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-مسز عمارہ عثمان،ساہیوال، یہ ایک بہت اچھی تجویز ہے،اس سلسلے میں تمام اسلامی ملکوں کو سوچنا چاہیئے کہ اور مثبت قدم اٹھانا چاہیئے کہ وہ مل بیٹھیںاور اپنے وسائل بروئے کار لائیں، اپنی توانائی سے ملک کی ترقی میں حسہ لیتے ہوئے ایسی یونین کا قیام عمل میں لائیں، اسی طرح ممکن ہے کہ سیاسی معاشی تجارتی معاملات مین ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں، |
| |
| Mrs.amara usman |
Posted on: Friday, June 11, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-بلال، راولپنڈءی یہ اچھی تجویز ہے کیوں نہیں اسلامی ممالک مل کر نہیں بیٹھ سکتے ہیِں چاہیں تو سب کچھ ممکن ہے، |
| |
| Bilal |
Posted on: Friday, June 11, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-آصف محمود، اسلام آباد، ہمارے حکمران عوام کی نہیں صرف اپنی بھلائی چاہتے ہیں، ان کا اپنا ذاتی مفاد وابستہ ہے یہ مسلم امہ کے اتحاد کا سوچیں تو بہتر ہے جو وقت کی ضرورت ہے، |
| |
| Asif Mahmood |
Posted on: Friday, June 11, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-پرویز، کراچی،یہ بتائیں کہ اتنے عرصہ میں او آئی سی نے کیا گل کھلایا ہے، یہ سب عوا کو الو بنارہے ہین،کیونکہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا، |
| |
| pervez |
Posted on: Thursday, June 10, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-محمد ریاض، ایک گھر میں رہنے والے متحد نہیں رہ سکتے ہیں تو اتنے سارے مسلم ممالک کیسے مل بیٹھ سکتے ہیں، ان میں اتحاد نا ممکن ہے، |
| |
| muhammad riaz |
Posted on: Thursday, June 10, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-ذوالفقار، پیرس، یہاں اسلامی یونین نہیں بن سکتی، ان مسلمان ملکوں میں اختلاف رائے اتنا ہے کہ مل بیٹھ کرنہیں سوچ سکتے، ان سے کوئی توقع نہیں ہے، |
| |
| zulfiqar |
Posted on: Thursday, June 10, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-جانی، روم، یہ بجٹ عوام کے لئے مشکلات کا بجٹ ہے یہ صرف بڑے لوگوں کا بجٹ ہے،عوام کو ان سے کچھ نہیں ملے گا، |
| |
| jani |
Posted on: Thursday, June 10, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-علی، اسپین، یہ بہت اچھا کام ہے اس پر توجہ دینی چاہیئے، |
| |
| ali |
Posted on: Thursday, June 10, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
ذوالفقار احمد، راولا کوٹ، مسلم یونین کی بات درست ہے، لیکن سارک ممالک کو بھی اس پر غور کرنا چاہیئے، یورپی یونین کی طرح یہ ممالک بھی ایک دوسرے سے قریب ہیں، بشرطیکہ خود ان،میں بھی اتحاد ہونا چاہیئے،- |
| |
| Zulfiqar Ahmed |
Posted on: Thursday, June 10, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-شہزاد حسن، میانوالی، یہ ایک اچھی تجویز ہے، اس پر عمل ہونا شرط ہے،ہمارے سیاستدانون کو اس تجویز پرغور کرنا چاہیئے |
| |
| shahzad hassan |
Posted on: Wednesday, June 09, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-خرم رحمن، لاہور۔ اگر ہم صحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں تو اس تجویز پر عمل کرنا مشکل نہیں ہوگا، کاش ہمارے حکمران سمجھ سکیں، |
| |
| khurram rehman |
Posted on: Wednesday, June 09, 2010 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
-اکرم، یونان، بالکل یہ ممکن ہے،اگر مسلم ممالک اسلام کو اپنا رہنما سمجھتے ہوئے ایسے عملی اقدامات کرسکتے ہیں جو ہر قسم کے معاملات میں ان کے لئے معاشی ترقی کے دروازے کھول سکے، انہیں متحد ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے،اسلامی یونین بنا سکتے ہیں، |
| |
| AKRAM |
Posted on: Wednesday, June 09, 2010 |
|
 |
 |
 |
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | Next Page 1 of 4
|
|