Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Tuesday, September 07, 2010, Ramzan 27, 1431 A.H.
 
مراسلات
 
Share بھارت اسرائیل ڈرون معاہدہ
امریکا اور روس کے ساتھ دفاعی اور نیو کلیئر توانائی سے متعلق معاہدوں کے بعد بھارت نے اسرائیل کے ساتھ ڈرون طیاروں کے حصول کے حوالے سے معاہدہ بھی کر لیا ہے بھارت نے اس معاہدے کو حد درجہ خفیہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے ساتھ جاسوس ڈرون طیاروں کے حوالے سے معاملات چل رہے جبکہ بھارت نے اسرائیل سے طیارے حاصل کرنے کیلئے تگ ودو شروع کر رکھی ہے اور اس سلسلے میں معاہدے بھی کر لئے ہیں بھارت کی جانب سے اسرائیلی ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول کے بعد خطے میں ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے طاقت کا توازن بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ بھارت اس سے قبل اسلحے اور اٹیم بم بنانے کی دوڑ کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد خطے میں ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول کی دوڑ شروع کرنا چاہتا ہے۔ 1998ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر کے علاقائی ممالک پر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی لیکن جواباً پاکستان نے چاغی میں ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کر کے بھارت سمیت دنیا بھر کو ششدر کر دیا جب تک پاکستان نے جواباً ایٹمی دھماکے نہیں کئے تھے تو ان دنوں کے اخبارات اٹھا کران کا مطالعہ کیا جائے تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بھارتی رہنماؤں کی پاکستان کے حوالے سے ”ٹون“ کیسی تھی لیکن جیسے ہی پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو بم دھماکہ کیا تو بھارت کے رہنما بھیگی بلی کی طرح بیٹھ گئے۔ بھارت کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر کام نکلوائے جائیں اور اگر مدمقابل اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر سینہ تان لے تو دبک کر رام رام الاپنا شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی 8 لاکھ فوج داخل کر کے وہاں قتل وغارت اور ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے خود کشمیریوں کا بھی مقبوضہ کشمیر کی وادی کے وسائل پر حق نہیں ہے۔ وہاں ہندو تاجر برادری کو پروموٹ کیا جاتا ہے تاکہ مسلمان اس قابل بھی نہ رہیں کہ وہ بھارت کے خلاف کبھی اٹھ کھڑے ہوں۔ بھارتی فوج آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں پر بھی آئے روز فائرنگ کا تبادلے کر کے وادی کے اس پار کے عوام کو بھی پریشانی میں مبتلا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن پاک فوج کی جوابی کارروائیوں سے بھارتی توپیں خاموش ہو جاتی ہیں گویا علاقے میں اسلحے کی دوڑ بھی بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ تو خالصتاً بھارت کے ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے کیا۔ اس سے قبل بھی پاکستان کے پاس اس کی استعداد تو تھی لیکن وہ دھماکے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا تھا لیکن جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر کے خطے کا توازن خراب کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے مجبوراً جوابی ایٹمی دھماکے کئے۔ اب بھارت اسرائیل سے ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کر کے پاکستان کیلئے ایک مستقل خطرہ پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ نعوذباللہ وہ جب چاہے پاکستان کے حساس مقامات سمیت شہری آبادی کے علاقوں کو ڈرون حملوں کے ذریعے تباہ کر سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول کی اس کاروائی پر پاکستان ظاہر ہے خاموش تماشائی بن کر تو نہیں بیٹھ سکتا۔ پاکستان اگر ایٹم بم خود بنا سکتا ہے تو وہ ڈرون ٹیکنالوجی کی بھی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لے گا۔ بہرکیف جب تک امریکہ اس خطے میں ہے اسے بھارتی معاملات اور حرکات پر نظر رکھنا ہو گی بھارت کی اسلحے کی دوڑ اور انسان دشمن ٹیکنالوجی کے حصول کا حد سے زیادہ لالچ بلاشبہ خطے کا امن وسکون تباہ وبرباد کر کے رکھ دے گا۔ بھارت کے عالمی طاقتوں کے ساتھ اوپر نیچے کئے گئے دفاعی معاہدے اور اب اسرائیل سے ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی کے حصول کا معاہدہ صرف اور صرف پاکستان کے خلاف استعمال کیلئے ہے اور یہ رویہ خطے کو ایک نہ ختم ہونے والے ڈر اور خطرے سے دوچار کر دے گا۔اب پاکستان بھارت کے مقابلے میں ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے سرگرمیاں تیز کرے گا تو بھارت ڈرون ٹیکنالوجی سے بھی بڑھ کر کچھ نیا حاصل کرنے کیلئے ہاتھوں پاؤں مارے گا یوں یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف بوجوہ جنگ اس خطے میں منتقل کر کے پاکستان، افغانستان اور ایران جیسے اسلامی ممالک کے مستقبل کو مخدوش کرنے کی چال چلی ہے اور یہ کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے وہاں سفارت خانے قائم کر لئے ہیں جو ویزہ جاری کرنے کے علاوہ دنیا کا ہر کام کرتے ہیں وہاں سے تخریب کار اور دہشت گرد تربیت حاصل کر کے صوبہ سرحد، وزیرستان اور صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے ہیں جہاں وہ معصوم شہریوں سمیت سیکورٹی حکام اور حساس مقامات کو نشانہ بناتے ہیں امریکہ نے نجانے کیوں جانتے بوجھتے ہوئے بھارت کی ان سرگرمیوں کی جانب کبھی انگلی نہیں اٹھائی۔ وجہ ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اور اب وہ مذاکرات کے لئے بھاگتا دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ اگر دنیا اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہے تو اسے بھارت کو اپنی حدود میں رکھنا ہو گا یہ نہ ہوا تو بھارتی چالبازیوں کی وجہ سے پورا خطہ آگ کا دریا بن جائے اور امریکی طاقت کے گھمنڈ کو بھی راکھ میں تبدیل کر دے گا۔ یہی وقت ہے کہ جب بڑی طاقتوں کو اپنا موٴثر کردار ادا کرتے ہوئے دنیا میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانا چاہئے۔
(یوسف عالمگیرین ۔ کراچی)
 
Print Version
 






This Page is not Published.....
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback