روزنامہ جنگ کے توسط سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب کوئی MBBS پاس کرلیتا ہے تو اس کو ڈاکٹر کی ڈگری دی جاتی ہے اور اس سے حلف لیا جاتا ہے کہ میں انسانیت کی خدمت کروں گا اور ہر مریض کا علاج دیانت داری سے کروں گا۔ لیکن ڈگری ملنے کے بعد اکثر ڈاکٹر حضرات یہ حلف نامہ بھول جاتے ہیں۔ آپ اگر اپنے کسی عزیز یا گھر کے فرد کو اسپتال لے جاتے ہیں اور اُس مریض کی حالت نازک ہوتی ہے مگر بعض ڈاکٹر پہلے رقم کی بات کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ہے تو مریض کا علاج ہوگا ۔ورنہ نہیں اور آپ کا مریض آپ کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجائے گا۔ روزانہ ہزاروں مرد، بچے اور عورتیں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں اپنا علاج کرانے جاتے ہیں اگر وہاں پر ”ڈاکٹر ایسے “ ڈاکٹر ہوں گے تو کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ (محمدیعقوب ہنگورہ۔ لیاری)