کوئٹہ (بلوچستان کے بارے میں عامر متین کی رپورٹ)بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں تشدّد کو اب ایک مجرّد لفظ کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ یہ ایک خوفناک حقیقت بن چکا ہے، جو اتنی قریب اور ہولناک ہے کہ آپ کوئٹہ کے بازاروں میں چلتے پھرتے لوگوں کے چہروں پر اسے لکھا دیکھ سکتے ہیں۔ دوسرے علاقوں کا تو ذکر ہی کیا جہاں کبھی حکومت کی عمل داری کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ تھا۔ کوئٹہ کی مارکیٹوں سے گزرتے ہوئے آپ یہ محسوس کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے کہ اب لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے نہیں ہیں کیونکہ انہیں کسی ان کہی نا معلوم ہلاکت خیز حقیقت کا ڈر ہے۔ کوئی شخص بھی دوسرے سے اس وقت تک گفتگو کا آغاز نہیں کرتا، جب تک اسے یہ نہ معلوم ہو جائے کہ دوسرے شخص کا لسانی تشخص کیا ہے۔ مذہبی فرقہ اور سیاسی نظریات کیا ہیں؟ تشدد نے ہر شعبہٴ زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، جو اب آپ کے ملبوس تک بھی پہنچ چکا ہے۔ اب یہاں لوگوں نے پتلون پہننا چھوڑ رکھی ہے کیونکہ پتلون پہننا اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ یا تو آپ آبادکار ہیں یا پھر آپ کا تعلق پنجاب سے ہے، لہٰذا ممکن ہے آپ کو صرف اسی جرم کی بنا پر قتل کر دیا جائے، جب کہ شلوار قمیض جیسے روایتی لباس میں ملبوس آدمی کی جاں بخش دی جاتی ہے۔ الفاظ کے انتخاب میں بھی عام آدمی بڑی احتیاط اور دیکھ بھال سے کام لیتا ہے اور اپنی مخصوص زبان میں کسی بات کی ادائیگی میں بھی غیر معمولی طور پر محتاط رہتا ہے کہ کہیں اس کا قومی اور لسانی تشخص بے نقاب نہ ہو جائے۔ اب شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کو روایتی اعتبار سے منائے جانے کا رجحان تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اب لوگ کہیں مل بیٹھنے سے بھی احتراز کرتے ہیں کہ کہیں انہیں بم دھماکوں کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ کوئٹہ کا جغرافیہ کسی بڑے پیالے سے مشابہہ ہے، جہاں شہر کے کسی ایک حصے میں ہونے والا دھماکا پورے شہر میں سنائی دیتا ہے، جس کے نتیجے میں افواہوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے، جو شہر میں پھیلی افراتفری میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو لینے اسکولوں کی طرف بھاگتی دکھائی دیتی ہیں۔ مرد واپس اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں تاکہ اپنے افراد خاندان کی حفاظت کر سکیں۔ دکانوں کے شٹرز ایک کے بعد ایک بند ہونے لگتے ہیں۔ نوجوانوں کے جتھے جن میں بڑی تعداد بے روزگار نوجوان طبقے سے تعلق رکھتی ہے، یہ مناظر دیکھنے یا پھر ٹائر جلانے اور سنگ باری کرنے کی غرض سے بازاروں کا رخ کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ اسی دوران قریب ہی واقع کوئٹہ کنٹونمنٹ میں فوجی افسران، خصوصی طور پر وہ جنہیں دی اسٹاف اینڈ کمانڈ کالج میں جنرل کے عہدے تک ترقی کی امید ہوتی ہے، انہیں اپنے افراد خاندان اور دوست احباب کی جانب سے ٹیلی فون کالز موصول ہونے لگتی ہیں، جن میں ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا کیلئے اپنے بچوں کو کنٹونمنٹ ایریا سے باہر ہر گز، ہرگز نہ بھیجیں۔ جہاں تک ملک کے دیگر شہروں یعنی اسلام آباد، لاہور اور کراچی کا تعلق ہے، ایسے واقعات کو اندرونی صفحات پر سنگل خبروں میں جگہ دی جاتی ہے یا پھر کسی نیوز چینل میں اسے اسکرول پر نشر کر دیا جاتا ہے۔ قومی خبروں میں ایسے واقعات کو قطعاً جگہ نہیں دی جاتی۔ اس کا ایک بڑا اور بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ چھوٹے مقامی صحافی ان واقعات کے بارے میں زیادہ لکھنے سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ وہ ان جرائم میں ملوث اکثر افراد کے نام جانتے ہیں، لیکن ان کا اظہار صرف اپنی نجی نشستوں میں ہی کرتے ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً تمام صحافی، اخبار نویس جب کبھی ان مسائل کے بارے میں کسی اہم بات کی نشان دہی کر رہے ہوتے ہیں، تو ان کی درخواست یہی ہوتی ہے کہ اس خبر یا واقعے کے بیان میں ان کا نام کسی بھی طرح نہ آنے پائے۔ کوئٹہ کے ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ :”آپ یہاں کے مسائل پر کھل کر بات کر سکتے ہیں، لکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ یہاں رہتے نہیں ہیں، ورنہ تو آپ اپنے بازو اور اپنی زندگی سے بھی محروم کر دیئے جائینگے“۔ کوئٹہ کے بلوچ علاقوں میں واقع بہت سے اسکولوں میں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھنے اور قومی پرچم لہرانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ بہت سے اساتذہ کو مطالعہ پاکستان کا مضمون پڑھانے سے روک دیا گیا ہے۔ ابھی حال ہی میں پانچ بلوچ نوجوان سینٹ میریز کنوینٹ پہنچے اور پاکستان کے قومی پرچم کو نذر آتش کر دیا۔ پورے بلوچستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ دیواروں پر پاکستان مخالف علیحدگی پسندانہ نعرے درج ہیں، جنہیں آپ جھالا وان اور سارا وان کی جنوبی بلوچ آبادیوں کے درمیان سفر کرتے ہوئے جا بجا دیکھ سکتے ہیں۔ بہرحال متعدد لوگوں کا یہ خیال ہے کہ واقعی موجودہ صورت حال بے حد سنگین ہے، تاہم اس کا موازنہ اس سے قبل رونما ہونے والی بلوچ سرکشی کے واقعات سے نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تجزیہ نگار نور کاکڑ کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی یہاں ہو رہا ہے، وہ محض ٹھوس سیاسی حقائق کے بجائے صرف ایک علامتی اقدام ہے۔ یہ سرکشی یا بغاوت نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ یہ انارکی کی ترجمانی کرتی ہے۔ بہرنوع بلوچستان کی موجودہ پُر تشدّد لہر کئی اعتبار سے گزشتہ بغاوتوں سے کافی حد تک مختلف ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ تحریک کو لیڈر شپ کا وہ اعلیٰ معیار حاصل نہیں جو سرکشی اور بغاوت کے واقعات میں گزشتہ تحریکوں کو حاصل تھا، جن میں تجربہ کار لوگ شامل تھے، جنہیں عوام کا بھرپور اعتماد اور بھروسہ حاصل تھا۔ چنانچہ موجودہ پرتشدد تحریک تجربے، تنظیم، اتحاد اور احترام کے حوالوں سے اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔ پہلی تین بلوچ بغاوتیں جو بالترتیب 1958-1948 اور 1960 میں برپا ہوئیں، وہ 1970ء کے عشرے میں رونما ہونے والی بغاوتوں سے بہت چھوٹی تھیں، تاہم اس زمانے میں تحریک کے لیڈروں کو باغیوں کا غیر معمولی احترام حاصل تھا۔ پرنس عبدالکریم خان نے، اس زمانے کے قوم پرست بلوچ نوجوانوں کو گریٹر بلوچستان کے قیام کی غرض سے جمع کیا تھا، جب ان کے بھائی میر احمد یار دی خان آف قلات نے الحاق کے معاہدے پر دستخط کئے تھے، جن کے بارے میں بلوچ قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کو خان آف قلات پر مسلط کیا گیا تھا۔ 1958ء کی بغاوت میں نواب نوروز خان کو اپنے پیروکاروں کا زبردست احترام حاصل تھا، جنہوں نے مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنانے کے فیصلے کیخلاف حکومت کے سامنے ہتھیار اٹھا لئے تھے، لیکن بعد میں یہی ہوا کہ انکے پانچ عزیزوں کو اس جرم میں پھانسی دیدی گئی کہ انہوں نے پاکستانی فوجیوں کو قتل کیا تھا۔ خود نواب نوروز خان بھی حراست کے دوران ہلاک ہو گئے۔ میر شیر محمد مری غالباً ان سب لیڈروں میں انتہائی با صلاحیت اور قابل لیڈر تھے، جنہوں نے 1963ء سے لیکر 1969ء تک بلوچ بغاوت کی قیادت اور رہنمائی کی، تاہم بلوچستان کی موجودہ پرتشدد صورت حال سے ماضی کی ان مضبوط تحریکات کا سرے سے کوئی مقابلہ اور موازنہ ہے ہی نہیں۔ بلوچستان ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر براہمداغ بگٹی ابھی بہت چھوٹے ہیں اور انہیں اپنے پیش رو لیڈروں جتنا تجربہ بھی حاصل نہیں ہے۔ انہیں سب سے پہلے بگٹی قبیلے کے متفقہ سربراہ ہونے کی سند حاصل کرنا ہو گی۔ بلوچستان کے مسئلے پر موجودہ بلوچ قیادت آپس میں تقسیم ہو چکی ہے۔ نواب خیر بخش مری بلوچستان میں مسلح بغاوت کے شدید حامی ہیں، جو عمر کے اس حصے میں ہیں جب وہ اس بغاوت کی قیادت کے قابل نہیں رہے۔ بالاچ مری پراسرار حالات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ عطاء اللہ مینگل اخلاقی طور سے اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں، تاہم وہ 1970ء کے عشرے سے بلوچستان کے معاملات میں کوئی عملی دلچسپی نہیں لے رہے۔ فی الوقت بلوچستان میں باغیوں کے گروپ درحقیقت چوں چوں کا مربہ بن چکے ہیں اور یہ بہت مشکل ہے کہ آپ انکے بارے میں یہ کہہ سکیں کہ کون کس کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ بلوچ باغیوں کے مختلف گروپ مختلف ناموں سے کام کر رہے ہیں، جن میں سے ہر گروپ صرف اپنے انفرادی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، جو ایک دوسرے سے بعض اوقات بالکل مختلف ہوتے ہیں، تاہم ان گروپوں کو ماضی کے باغی گروپوں اور لیڈروں کی طرح عزت و احترام حاصل نہیں ہے۔ اسلام آباد، بلوچستان کے تنازع اور مطالبات سے ہر گز بے خبر نہیں ہے، لیکن اصل مسئلہ یہی ہے کہ اسلام آباد کو یہ علم ہی نہیں کہ کس کو کیا دیا جائے اور غصیلے قوم پرستوں کو راضی کیسے کیا جائے؟ انتظامی اور سیاسی سیٹ اپ میں بعض سنگین نقائص موجود ہیں، جن کی موجودگی میں قوم پرستوں کے مطالبات کو تسلیم کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ سیاست دانوں کو بیانات جاری کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنا ہو گا اور فوج کو بھی وسعتِ نظر سے کام لینا ہو گا۔