| اسلام آباد (تجزیہ: …افضل خان) صدر آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر اپنے غیر ملکی دورے پر جانے کیلئے تیار ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے رات دیر سے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ زرداری برطانیہ جائیں گے؛ ان کے ساتھ وفد کے ارکان کی کم تعداد جائے گی۔ ان کے دورے کی منزل یعنی لندن ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد متعدد مرتبہ جا چکے ہیں لیکن صرف دبئی واحد جگہ ہے جو اس معاملے سے سب سے آگے ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ان کا دورہ برطانیہ کی وجہ سے ملک میں ان مطالبات کے بعد کہ شاید وہ اپنے دورہ برطانیہ پر غور کریں، تنازعات پیدا ہوئے ہوں۔ صدر مملکت اتوار کو فرانس روانہ ہوں گے جہاں سے وہ برطانیہ کے پانچ روزہ دورے کیلئے روانہ ہوں گے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے دورے کو سرکاری دورہ کہا گیا ہے لیکن تاحال دونوں ملکوں نے اس بات کی تصدیق کرنا باقی ہے کیونکہ سرکاری دورے چیف ایگزیکٹوز نے کرنا ہوتے ہیں اور صدر زرداری چیف ایگزیکٹو نہیں ہیں۔ تحریری طور پر 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد اگر پاکستان میں کوئی شخص چیف ایگزیکٹو ہے تو وہ وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی ہیں۔ سرکاری دوروں کا مقصد حکومتی معاملات ہوتے ہیں جبکہ صدر زرداری کے دورے کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ فرانس میں وہ اپنے پرانے دوست نکولا سرکوزی سے ملاقات کریں گے؛ ان کا نام بھی بدنام زمانہ اگوسٹا سب میرین اسکینڈل میں لیا جاتا رہا ہے۔ صرف برطانیہ میں صدر زرداری کا کام سرکاری نوعیت کا ہوسکتا ہے جہاں وہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کریں گے۔ پاکستان کیلئے فرینڈز آف پاکستان اور مارشل پلان کی شکل میں 100/ ارب ڈالر جمع کرنے اور میں ناکامی کے بعد اب صدر زرداری کی توجہ امداد (ایڈ) کی بجائے تجارت (ٹریڈ) پر مرکوز ہے اور وہ پاکستان کیلئے اضافی برآمدات اور مراعات حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ جب وہ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے اس وقت وہ برآمدات پر بھی بات کریں گے لیکن مختلف نوعیت کی۔ بنگلور میں ڈیوڈ کیمرون اس حد تک آگے نکل گئے کہ انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ برطانیہ، بھارت اور امریکا سمیت دنیا بھر کو دہشت برآمد کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا بیان ہے جو پاکستان کے دشمنوں نے بھی پہلے نہیں دیا۔ جب ہلیری کلنٹن پاکستان میں تھیں اس وقت انہوں نے کئی باتیں کیں لیکن صرف ایران کو دہشت برآمد کرنے والا ملک قرار دیا، کیمرون صاحب تو ان سے بھی ایک ہاتھ آگے نکل گئے اور پاکستان کو ایران کے مساوی قرار دیدیا۔ اس سے Axis of Evil (بدی کا محور) پورا ہوجاتا ہے۔ پہلے ایران، شمالی کوریا اور لبیا کو بدی کا محور قرار دیا جاتا تھا۔ لیبیا کو اب کلیئر کردیا گیا ہے لہٰذا، کیمرون کی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے، خالی جگہ میں پاکستان کو فٹ کردیا گیا۔ |
|