| کراچی (رپورٹ جاوید رشید) امریکہ، برطانیہ، روس اور افغانستان کے سفیروں نے ہفتہ کو بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ ایک مشترکہ ملاقات کی جس میں انہیں مشورہ دیاگیا کہ وہ پاکستان کے معاملہ میں اپنے نرم لہجہ کو ترک کرکے سخت رویہ اپنائیں اور اپنی عسکری قوت کو ہائی الرٹ کریں کیونکہ پاکستان کا فوکس صرف بھارت ہے۔ ’جنگ‘ کو خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسی ملاقات میں سعودی عرب کے سفیر نے بھارتی وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ شرم الشیخ والا رویہ اپنائے رکھیں، پاکستان بھارت سے مقابلہ کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وزیراعظم من موہن نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے حوالے سے 10ممالک کے سفیروں کو ایک ساتھ اپنے گھر پر بلایا تھا، پرائم منسٹر ہاؤس کے ایک انتہائی ذمہ دار ذرائع نے ’جنگ‘ کو بتایاہے کہ وزیراعظم 15 جولائی 2010 کے اسلام آباد کے مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی سے خاصے مایوس ہوئے ہیں، اب بھارت کی قیادت یہ سوچ رہی ہے کہ آئندہ مذاکرات بغیر کسی ضمانت اور عہد کے نہیں کریں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے اب بھارت مزید مذاکرات کیلئے آگے نہیں بڑھے گا تاحال شاہ محمود قریشی کے دورہ دہلی کے پروگرام کا کسی سطح پر بھی طے نہیں ہوا ہے۔ |
|